میں نہیں مانتا….. ٹرینڈ

علی کبیر
………………………

آج کی بدلتی دنیامیں ٹرینڈز کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔۔ سوشل میڈیا کا تھوڑا بہت علم رکھنے والے ٹرینڈز یا اردو میں کہا جائے رجحانات سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ٹرینڈز کو فالو کیا جاتا ہے تاہم ہمارے یہاں یہ قدرے تیزی سے اوپر جاتے ہیں اور اتنی ہی برق رفتاری سے فراموش بھی کردئے جاتے ہیں۔

کورونا وائرس کے پاکستان پہنچنے پر ہمیں کئی طرح کے ٹرینڈز فالو کرنے کو ملے، اسٹے ہوم اسٹے سیف، گھر رہیں اور دیگر کئی خوب زور و شور سے فالو کئے گئے۔ کچھ نے بس پوسٹ کرکے سماجی ذمہ داری ادا کردی جبکہ کچھ نے ان پر حقیقی انداز میں عمل بھی کیا۔
جیساکہ پاکستانی عوام کی طبعیت میں کچھ زیادہ ہی بے چینی ہے ت وہم کچھ وقت بعد چیزوں سے اکتانے لگتے ہیں۔
ابتدا میں فخر سے گھروں میں رہنے اور حکومتی ہدایات پر عمل کا سلسلہ دم توڑنے لگا. اب ہماری اکثریت “میں نہیں مانتا” ٹرینڈ کے پیچھے ہے۔
بظاہریہ ایک ایسا رجحان ہے جسے فیس بک یا ٹوئٹر پر پوسٹ سے زیادہ اس کا عملی طور پر مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ گھر، دفتر یا دیگر محفلوں میں وبا کے ہونے سے زیادہ اس کے نہ ہونے پر ہی بحث چل پڑی ہے. بنا کسی ثبوت یا ٹھوس دلیل کے اور اس کی موجودگی کے انکاری زیادہ ہیں۔ مزید یہ کہ سائنس یا طب کی دنیا سے دور دور تک تعلق نہ رکھنے والے اس میں اپنا حصہ زیادہ ڈال رہے ہیں۔

وطن عزیز میں رمضان کی آمد سے قبل اور اکیس رمضان کے جلوس سے لے کر عید کی نماز تک ایک ایسا بھونچال آیا کہ جسے اقتدار اور اختلاف میں موجود افراد نے سنبھالنے کی کوئی خاص کوشش نہ کی بلکہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے میں ہی بہتری سمجھی۔ رہےعوام وہ تو پہلے ہی مذہب، لسانیت، صوبائیت اور دیگر کارڈز سے چمٹے بیٹھے ہیں کہ بس چنگاری دینے کی دیر ہے اور آگ بھڑک اٹھے۔

عید کے موقع پر لاک ڈاؤن میں نرمی کا فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کا غلط استعمال زیادہ دیکھنے کو ملا۔ کراچی تا خیبر جس کے بس میں جتنا آیا اس نے اتنا ہی “میں نہیں مانتا” کی تائید کی۔ سماجی فاصلے، ماسک لگانا یا دیگر ایس او پیز کو ایسے بھولے جیسے اب وبا اس جہاں سے ہمیشہ کیلئے چلی گئی ہو یا پھر ویکسین ایجاد ہوگئی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ میں نہیں بتاؤں گا ٹرینڈ کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑنے والے میں نہیں مانتا کے ٹرینڈ کو کتنی جلدی بھول کر کچھ نیا اپناتے ہیں۔ بس دعا یہ ہے کہ موجودہ ٹرینڈ ہمیں ایسے خطرےمیں نہ ڈالے جس کی قیمت بھاری پڑجائے۔