کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

جون ایلیا ایک ایسے شاعر ہیں جن کا اپنا لہجہ، اپنا اسلوب ، اپنا ڈھب ، اپنی جدا زمین اپنا یکتا قافیہ ہے. جون ایلیا اپنے لہجے اور کلام میں کی شدت رکھتے ہیں. وہ مشاعرہ پڑھتے تو سننے اور دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے. کہتے ہیں کہ جو جون ایلیا کا ہوگیا وہ اور کسی کا نہیں ہو سکتا . ان کی برسی پر ان کی چند غزلیں .
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے

صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے

رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں

سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے

یہ خراباتیان خرد باختہ

صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے

کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں

کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم

بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے

………………………………………..

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا

تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی

تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا

ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ

مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا

جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے

کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا

بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے

گناہ ترک بادہ کر لیا کیا

یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں

سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا

اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک

بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا

تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں

بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو

بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
…………………………………
ایک نظم
…………………………………
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے

میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں

میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر

ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن

مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا

زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا