گرہن سر پر، مفتی منیب الرحمن فرمودات کے ساتھ

سورج گہن
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمٰن
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(۱) ’’وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ذَلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ oوَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَّی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیْمِ oلَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَسْبَحُونَ oترجمہ:’’ اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چلتارہتاہے ،یہ بڑی غالب اور علیم ہستی کا مقررکیاہوانظام ہے اورہم نے چاند کے لیے بھی منزلیں مقرر فرمادی ہیں ، یہاں تک کہ وہ لوٹ کر کھجور کی پرانی شاخ کی مانند (باریک) ہوجاتا ہے، نہ سورج کی یہ مجال کہ وہ (اپنی گردش کے دوران) چاند کو جا پکڑے اورنہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے اورہرایک (اپنے اپنے) مدار میں تیر رہا ہے ،(یاسین:38-40)‘‘۔
(۲)’’ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ oوَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدَانِ o‘‘۔
ترجمہ:’’ سورج اور چاند حساب (اور قدرت کے مقررہ ضابطے ) کے پابند ہیں اور (زمین پر بچھا ہوا) سبز ہ اور (کھڑے) درخت (اس کے حضور) سجدہ ریز ہیں،(الرحمن:5-6)‘‘۔
(3)’’إِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِہِ‘‘۔
ترجمہ:’’ بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں اورزمین کو روکے ہوئے ہے کہ وہ اپنی جگہ سے (نہ) ہٹیں اوراگر وہ ہٹ جائیں ،تو اللہ تعالیٰ کے سواکوئی انہیں روک نہ سکے ،(فاطر:41)‘‘۔
ان آیات سے معلو م ہوا کہ سورج ، چاند ،ستارے ، بحر وبر ، ہوائیں ،بادل اور گردشِ لیل ونہار یہاں تک کہ پورا نظام ِ کائنات اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے ،یہ سب مظاہر کائنات ایک قادرمطلق ہستی کے غیر مرئی نظم وضبط کی لڑی میں اتنی شدت سے بندھے ہوئے ہیں کہ کسی کو مجال ِ انحراف نہیں ہے۔ یہ نظامِ کائنات کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے ،بلکہ ایک مربوط ، منضبط اور مُنظم شاہکار قدرت ہے ۔
’’عَنْ أَبِی مُوسٰی قَالَ:خَسَفَتِ الشَّمْسُ،فَقَامَ النَّبِیُّ ﷺ فَزِعًا،یَخْشٰی أَنْ تَکُوْنَ السَّاعَۃُ، فَاَتَی المَسْجِدَ، فَصَلّٰی بِاَطْوَلِ قِیَامٍ وَرُکُوْعٍ وَسُجُوْدٍ رَأَیْتُہٗ قَطُّ یَفْعَلُہٗ، وَقَالَ:ہٰذِہِ الْآیَاتُ الَّتِی یُرْسِلُ اللّٰہُ،لَا تَکُوْنُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہٖ، وَلٰکِنْ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗ،فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ، فَافْزَعُوْا إِلٰی ذِکْرِہٖ وَدُعَائِہٖ وَاسْتِغْفَارِہٖ‘‘۔
ترجمہ:’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی ﷺ کے عہد کریم میں ایک مرتبہ آفتاب میں گہن لگا،آپ ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور بہت طویل قیام و رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھی کہ میں نے کبھی ایسا کرتے نہ دیکھا اور یہ فرمایا:اللہ عزوجل کسی کی موت و حیات کے سبب اپنی یہ نشانیاں ظاہر نہیں فرماتا، لیکن اِن سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہٰذا جب ان میں سے کچھ دیکھو تو ذکر و دُعا و استغفار کی طرف گھبرا کر اٹھو،(بخاری:1059)‘‘۔
’’عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدَبٍ،قَالَ:صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی الْکُسُوْفِ فَلَا نَسْمَعُ لَہٗ صَوْتًا‘‘۔
ترجمہ:’’حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے گہن کی نماز پڑھائی اور ہم رسول اللہ ﷺ کی آواز نہیں سنتے تھے،یعنی قراء ت آہستہ کی،(سُنن ابن ماجہ:1264)‘‘۔
یہ خیال شرعاً بالکل باطل اور غلط ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے موقع پر خواتین بالخصوص حاملہ خواتین پر کوئی اثرات مرتب ہوتے ہیں یا انہیں اُس وقت چلتے پھرتے رہنا چاہیے، اِن تَوہُّمات کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ہے ،ہاں ! خواتین کو بھی چاہیے کہ نماز ،ذکر ، توبہ واستغفار اور تسبیح وتحمید میں مشغول رہیں ، اسی طرح حاملہ جانور کو بھی سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت کھڑا رکھنے یا چلاتے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:
’’سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی مستحب۔ سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہو سکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائط جمعہ اس کے لیے شرط ہیں، وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جو جمعہ کی کر سکتا ہے، وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں، گھر میں یا مسجد میں،گہن کی نماز اسی وقت پڑھیں جب آفتاب گہنا ہو، گہن چھوٹنے کے بعد نہیں اور گہن چھوٹنا شروع ہوگیا ،مگر ابھی باقی ہے اس وقت بھی شروع کر سکتے ہیں اور گہن کی حالت میں اس پر ابر آجائے جب بھی نماز پڑھیں۔
ایسے وقت گہن لگا کہ اس وقت نماز ممنوع ہے تو نماز نہ پڑھیں، بلکہ دُعا میں مشغول رہیں اور اسی حالت میں ڈوب جائے تو دُعا ختم کر دیں اور مغرب کی نماز پڑھیں،یہ نماز اور نوافل کی طرح دو رکعت پڑھیں یعنی ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے کریں نہ اس میں اذان ہے، نہ اقامت، نہ بلند آواز سے قراء ت اور نماز کے بعد دُعا کریں یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اور دورکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں، خواہ دودورکعت پر سلام پھیریں یا چار پر،(بہارِ شریعت ، جلد:اول،ص:787)‘‘۔