حکومت شوگر انکوائری رپورٹ پر کارروائی روک دے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی سے روک دیا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی. عدالت نےحکومت کو شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی سے روکتے ہوئے 10 دن کے لیے حکم امتناع جاری کردیا۔

ہائی کورٹ نے اگلے 10 دن کے لئے چینی کو 70 روپے فی کلوگرام کی شرح سے فروخت کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی۔

عدالت نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر ، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) ، ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء کو نوٹس پیش کیا اور حکومت سے 10 دن میں جواب جمع کرانے کو کہا۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے گزشتہ روز چینی بحران سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

شوگر مل مالکان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت ، انکوائری کمیشن کے سربراہ واجد ضیا اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے 16 مارچ کو چینی کے بحران سے متعلق انکوائری کمیشن تشکیل دے کر آئینی ضابطوں کی خلاف ورزی کی۔

پی ایس ایم اے نے ہائی کورٹ سے شوگر انکوائری کمیشن کی تشکیل کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

شہزاد اکبر نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے شوگر انکوائری کمیشن کی پیش کردہ سفارشات کو منظور کرلیا اور شوگر اسکینڈل پر فوجداری قانون کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ پہلا ریفرنس بھی چیئرمین نیب کو بھیج دیا گیا ہے.