ویل ڈن عمران …. وزیر اعظم کے اقدام پر کون کون خوش

ملکی تاریخ کے سب سے اہم کنسٹرکشن پیکج کو مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا جارہا ہے، کاروباری طبقہ ، سرمایہ کار، معاشی تجزیہ اور سیاسی حریف سب اس پیکج کے معترف ہوگئے ہیں.

معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا ہے کہ تاریخ میں ایسا پیکج کبھی نہیں آیا، اب ملک میں بڑے پیمانے پر پیسہ آئے گا اور روزگار بڑھے گا. عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ ایسے اقدامات کے بارے میں اب تک کسی حکومت نے کام نہیں کیا.

وزیر اعظم نے سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کنسٹرکشن سیکٹر کھولنے جارہے ہیں جس کا مقصد لوگوں کو روزگار ملے، کنسٹرکشن سیکٹر والوں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں، گھربنائیں، سڑکیں بنائیں تاکہ اس سیکٹرمیں کام ہوسکے، لوگ کو بھوک اورافلاس سےبچانےکیلئےکنسٹرکشن سیکٹرکھول رہےہیں، جوبھی اس سال کنسٹرکشن سیکٹرمیں سرمایہ لگائیں ان کی انکم نہیں پوچھی جائے گی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ فیصلہ کیا ہےکنسٹرکشن سیکٹر میں فکس ٹیکس کر رہے ہیں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کےتحت کنسٹرکشن میں اگر100روپےٹیکس ہوگاتو90روپےمعاف کردیں گے، صوبوں کیساتھ مل کرسیلزٹیکس بھی کم کررہےہیں، پنجاب اورکےپی سیلزٹیکس کو2فیصدپرلےآئےہیں اگر کوئی فیملی اپناگھر بیچناچاہتی ہےتو اس پرکوئی کیپٹل گین ٹیکس نہیں لگےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیاپاکستان ہاؤسنگ اسکیم کےلیے30ارب روپےکی سبسڈی دیں گے اور آگے بھی بڑھائیں گے، کنسٹرکشن کوہم انڈسٹری کا اسٹیٹس دے رہےہیں اور کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیویلپمنٹ بورڈتشکیل دے رہے ہیں، کنسٹرکشن انڈسٹری کےلیےایک پورا ادارہ بن جائے گا۔

وزیر اعظم کے اس پیکج کو سندھ حکومت نے بھی سراہا ہے، وزیر اطلاعات ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ ہم اس پیکج کا خیر مقدم کرتے ہیں، ملکی مفاد میں جو بھی وفاق اقدام کرے گا اسے سپورٹ کیا جائے گا.

ن لیگ کے محمد زبیر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اب سمجھ آگئی ہے کہ کون سے اقدامات کرنا ضروری ہیں، یہی کام ن لیگ بھی کررہی تھی.