طالبان کے لیے کیا اچھا ہے؟

افغانستان میں امن کے لیے امریکا اور افغان طالبان نے امن معاہدے پر دستخط کردیے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معاہدے پردستخط کی تقریب ہوئی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پچاس ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ طالبان وفد نے روایتی لباس شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ جیسے ہی ڈیل سائن ہوئی ہال اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھا۔

معاہدے کے مطابق مطابق افغانستان میں القاعدہ اور داعش سمیت دیگر تنظیموں کے نیٹ ورک پر پابندی ہوگی۔

دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھرتیاں کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

معاہدے کے مطابق امریکی فوج چودہ ماہ میں افغانستان سے انخلاء مکمل کرے گی۔

فریقین جنگ بندی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔ پانچ ہزار گرفتار طالبان کو رہا کیاجائے گا۔ طالبان رہنماؤں کا نام اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالا جائے گا۔ بین الافغان مکالمے کے آغاز دس مارچ سے کیا جائے گا۔

فریقین نے معاہدے تک پہنچنے پر پاکستان کے کردار کا اعتراف اور شکریہ ادا کیا۔

افغان امن معاہدے کے بعد دوسرا مرحلہ مارچ کے اوائل میں شروع ہوگا جس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔