فیس بک کو صارفین کے،معلومات کے سیاسی استعمال پر بھاری جرمانہ

فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے 5 کروڑ صارفین کی معلومات غلط اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے پر فیس بک پر 5 ارب ڈالر (7 کھرب90 ارب روپے) کا جرمانہ عائد کردیا۔

یاد رھے کہ کیمبرج اینالاٹکا (سی اے) نامی کمپنی نے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ان کی انتخابی مہم کے دوران فیس بک کے 5 کروڑ صارفین کی معلومات استعمال کی تھی۔

فیس بک صارفین کی معلومات سے متعلق الزام کو مسترد کرتا رہا لیکن شدید دباؤ کے بعد تسلیم کیا کہ ان کے پلیٹ فارمز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

جس کے بعد ایف ٹی سی نے مارچ 2018 میں فیس بک کے خلاف تحقیقات شروع کردی تھی۔

اس سے قبل فیس بک انتظامیہ رواں برس اپریل میں واضح کرچکی تھی کہ ایف ٹی سی سے مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں اور 3 سے 5 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ایف ٹی سی سے معاہدہ میں فیس بک نے آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ صارفین کی معلومات کو سنبھالنے کے طریقوں پر جائزہ لے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایف ٹی سی کے ساتھ تصفیے میں فیس بک کو پابند نہیں کیا گیا کہ وہ تھرڈ پارٹی کو صارفین کی معلومات فراہم نہیں کرےگا۔

دوسری جانب ناقدین نے کہا کہ فیس بک کے خلاف 5 ارب ڈالر کا جرمانہ ناکافی ہے کیونکہ رواں سال پہلے 3 ماہ میں کمپنی کا ریونیو 15 ارب ڈالر سے زائد تھا
اوپن مارکیٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو میٹ اسٹولر نے کہا کہ ’مذکورہ جرمانہ فیس بک کے لیے محض ایک پارکنگ ٹکٹ ہے جس کے بعد کمپنی صارفین کی معلومات سے متعلق مزید غیرقانونی اور غیرمعمولی نگرانی کرے گی‘۔