دعا

تسلیمہ لودھی
…………………………….

سر۔۔ مجھے اجازت ہے۔۔؟ میری فلائٹ ہے۔۔۔
اُس نے اپنے لاہور کے آفس کے باس سے کچھ یوں اجازت لی جیسے برسوں بعد اپنے گھر کا رُخ کر رہا ہو۔۔۔۔
اور اجازت ملنے پر مارکیٹ کی جانب دوڑ لگائی۔۔۔کہ ماں اور بیگم کےلئے سوٹ لینا ہے اور بچوں کےلئے کچھ کھلونے بھی لے لوں گا۔۔۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے 2 مہینے سے پھنسا ہوا تھا۔۔۔اب جا کر کچھ دن آرام سے گھر والوں کے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔ ہاں بھٔی سب چیزیں خرید لی ہیں۔۔۔ بس تم لوگ مارکیٹ نہیں نکلنا۔۔۔میں بس 4بجےتک گھر پہنچ جاوُں گا۔
۔۔ائیر پورٹ پر ہوں فون اب بند کر دوں گا۔۔۔روزہ گھر میں کھولوں گا۔۔۔امی میرے لئے آج آپ بریانی بنا کر رکھئے گا۔۔۔ کافی دن ہو گئے آپ کا ہاتھ کا کھانا نہیں کھایا۔۔۔وہاں سے ماں نے دعائیں دیتے ہوئے فون بند کر دیا۔۔۔
ماں نے نماز ادا کی اور اپنے بیٹے کی صحیح سلامت واپسی کےلئے دعا کرتے ہوۓ۔ بریانی پکانے کی تیاری شروع کر دی۔۔۔۔ شہلا بھئی جلدی کرو۔۔۔ بس وہ پہنچنے والا ہو گا۔۔۔۔

امّی امّی امّی۔۔۔
کیا ہوا ۔۔امّی شہلا کہ گھبرائی ہوئی آواز سنتے ہی دوڑی چلی آئیں۔۔۔۔
۔ امّی یہاں آئیں۔۔۔ یہ فلائیٹ۔۔۔۔ امّی ۔۔۔۔اس سے آگے نہ کچھ کہہ سکی نہ امّی سُن سکیں۔۔۔
یہ کہتے ہوئے شہلا بے ہوش ۔۔۔ماں بھی سکتے میں چلی گئی۔۔۔۔ ایک کہرام سا مچ گیا۔۔۔
لاہور سے کراچی آنے والی فلائیٹ کریش۔۔۔
محلّے میں سے بھی لوگ آ کر پوچھنے لگے تھے اب تو۔۔۔کویا جیسے تعزیت کرنے آ رہے ہوں۔۔۔ جیسے اکثر اموات میں محلے والے پہلے آ پہنچتے ہیں۔۔۔
جو شہلا کو بلکل اچھے نہیں لگ رہے تھے۔۔۔
کیا اچھا لگتا ہے کسی کی موت کی خبر سے پہلے ہی اُسکی موت کا پہلے سے یقین کر لینا۔۔۔
کوئی خیر خبر بھی تو نہیں مل رہی تھی۔۔۔ اُس کا نام بھی نہیں آ رہا تھا۔۔۔
کیا کروں کہاں جاؤں۔۔۔۔ کس سے پتہ کروں۔۔۔
ماں اور جمعتہ الوداع کےلئے بنایا ہوا نئے سفید جوڑے میں تیار بیٹھی شہلا اب ذہنی طور پر خود کو تیار کر رہی تھیں۔۔۔
اتنے میں فون بجا۔۔۔ کسی انجان نمبر سے تھا۔۔۔
شہلا۔۔۔۔میں بات کر رہا ہوں۔۔۔ شہلا۔۔۔کیا ہوا۔۔۔ جواب دو۔۔۔
آپ۔۔۔آپ کی فلائٹ۔۔۔۔ وہ اسی ششُ پنج میں تھی۔۔۔۔کہ یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔۔ جس فلائیٹ میں آنا تھا وہ تو ۔۔۔۔ اس سے آگے نہیں سوچ سکتی تھی۔۔۔
مجھے فلو ہونے کی وجہ سے جہاز میں سوار نہیں ہونے دیا۔۔۔ کہ اجازت نہیں ہے۔۔ میں اداس ہو گیا تھا۔۔۔ موبائل کہ بیٹری بھی ختم کو گئی تھی۔۔۔ اس لئے کال نہیں کر سکا۔۔
ماں نے جب اُس کی آواز سُنی تو یقین آگیا۔۔۔
اللّہ کسی ماں کی اولاد کے حق میں کی گئی دعا کیسے رد کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔