شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پیش

چینی کی بڑھتی قیمتوں، قلت اور ایکسپورٹ کی اجازت دینے پر قائم کمیشن نے اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کردی ہے.

رپورٹ کمیشن کے سربراہ اور ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے پیش کی۔ واجد ضیاء نے آج صبح وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی.

جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تین سو چھیالیس صفحات پر مبنی شوگر کمیشن کی حتمی رپورٹ میں شوگر ملز مالکان پر ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا گیا ہے . دوسو سے زائد صفحات کی رپورٹ کے ساتھ شوگر ملز مالکان کے بیانات بھی لگائےگئے ہیں۔

فرانزک آڈٹ شوگر ملز کی پیداوار اور فروخت کے حوالے سے بھی تفصیلات شامل ہیں جب کہ چینی کے بے نامی خریدواروں کا ذکر اور ای سی سی کے فیصلے سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔

فرانزک آڈٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ چینی مافیا کی جانب سے سٹہ کیسےکھیلا گیا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں