نیا سال اور نیا بلاگ

منصور احمد
…………………………

مگر لکھوں کیا؟ باتیں تو ساری پرانی ہیں۔
نئے سال پر جہاں دنیا بھر میں خوشیاں منائی جارہی ہیں وہیں ہمارے ملک کے حکمرانوں نے عوام کو دیے شاندار تحالف۔
ایک نہیں دو نہیں تین تین۔ نیا سال شروع ہونے سے چند گھنٹوں پہلے عوام پر بجلی بم گرایا گیا۔ کراچی کے رہنے والوں کو ایک بار پھر کے الیکٹرک کے رحم وکرم پر چھوڑتے ہوئے بجلی فی یونٹ تقریبا پانچ روپے مہنگی کردی گئی. یعنی نیپرا نے جو کے الیکٹرک پر پانچ کروڑ کا جرمانہ لگایا تھا اب اس کا سو گنا نہیں بہت سارے گنا فائدہ دیا جارہا ہے. عوام کی کھال اتارنے کے لیے ایک سو چھ ارب روپے وصولی اجازت دے کر کراچی والوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے وہیں وزیر پیٹرولیم پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی خبر سناکر غریب عوام کے زخموں پر نمک ڈال دیا۔ حکومت نے گزشتہ ماہ پچیس پیسے پیٹرول پر کم کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری تھی اور نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی دو روپے اکسٹھ پیسے کا اضافہ کردیا۔
اب کوئی ان حکمرانوں کو بتائے کہ بھائی اکسٹھ پیسے کیا ہوتا ہے اب پیسوں کا تو زمانہ نہیں ہے پورے تین روپے کا اضافہ کیا صاف بولیں ۔

اکسٹھ پیسے انہتر پیسے صرف عوام کو ماموں بنانے کے لیے رہ گئے ہیں۔۔پھر تیسری چیز رہ جاتی ہے گیس ۔ جو اس وقت نایاب ہوگئی ہے مل رہی نہیں ہے اور اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ پھرکہتے ہیں ملک نازک دور سے گزررہا ہے آخر کب تک ملک نازک دور سے گزرے گا۔ وزیراعظم اپنی تقریروں میں فرماتے رہے ہیں کہ دوہزار بیس خوشخالی کا سال ہوگا لیکن ان تین تحفوں کے بعد تو وزیراعظم کا ایک ہی فرمان یاد آرہا ہے ان کو رلاؤں گا میں ان کو تکلیف پہنچاؤں گا میں۔ بس وزیراعظم کے یہی جملے اب تو کانوں میں گونج رہے ہیں ۔۔وزیراعظم نے عوام کے لیے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔۔لیکن ان کے یہ تاریخی جملے ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ہیں۔ بس ایک بات کی کمی ہے کہ عوام یہ کہتے نظر آئے کپتان آیا تھا ۔ دوہزار انیس کی باتیں لکھوں تو ایک نہ ختم ہونے والی لاحاصل گفتگو ہوگی۔
نئے سال کی آمد ہے دنیا بھر کی طرح نئے سال کو خوش آمدید کہوں تو بجلی،گیس ،اور پیٹرول کی قیمتیں دماغ کو چکرانے لگتی ہیں۔ کیا نیا لکھوں۔ دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں؟
کیا لکھوں؟یہ کہ نئے سال پر لنگرخانے کھولیں گے ملک کے غریبوں کو مفت میں کھانا کھلائیں گے یا دیسی مرغیاں اور دیسی انڈے خریدکر لاؤ انہیں پکاؤ یا بیچو؟
کٹے لوگوں میں تقسیم کروں یا ان کا گوشت کھاؤں؟
کیا کروں؟
آپ کی سمجھ میں کچھ آئے ۔ کوئی مثبت خبر ملک کے لیے عوام کی خوشحالی کے لیے تو مجھے ضرور بتائیں ۔۔۔بس اتنا ہی کہوں گا میری طرف نیا سال آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو ۔۔حکومتی وار سے اگر بچ گئے ہوں تو خرچ کرکے تھوڑی خوشیاں خریدلیں اور اپنے آس پاس رہنے والوں میں تقسیم کردیں ورنہ اچھی سی دعا ہی دے دیں کہ نیا سال ہم سب کے لیے خوشحالی لےکر آئے کیونکہ حکمرانوں سے کوئی امید رکھنا ایسے ہی جیسے بھنیس کے آگے بین بجانا ۔۔
جاتے جاتے یاد رکھیے ان کو رلاؤں گا میں ۔۔ان کو تکلیف پہنچاؤں گا میں ۔
باقی رہے نام اللہ کا