وارد موبی لنک انضمام تحقیقات، گرفتاریاں ہوں گی، قومی احتساب بیورو

قومی احتساب بیورو (نیب) وارد اور موبی لنک کے انضمام سے ہونے والے مالی فائدے اور بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائری حتمی مراحل میں ہے اور آئندہ دنوں میں گرفتاریاں کی جائیں گی۔ یہ بات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کو بتائی گئی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی 3 کا اجلاس سینیٹر شیری رحمٰن کی سربراہی میں ہوا، جس میں شعبہ ٹیلی کمیونکیشن کی 16-2015 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے

دوران ایک ایجنڈا آئٹم کا عنوان ‘ وارد کمپنی کی جانب سے 4جی ایل ٹی ای (لانگ ٹرم ایولوشن) کے غیرقانونی استعمال سے سرکاری خزانے کو 51 ارب 69 کروڑ روپے (51 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) کا نقصان’ تھا۔

2015 میں موبی لنک اور وارد ضم ہوکر ایک کمپنی بننے پر رضامند ہوئے تھے جبکہ 2017 میں ایک مشترکہ سی ای او کا اعلان کیا گیا تھا اور کمپنی کا نام جاز رکھ دیا گیا تھا۔

ادھر آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے نمائندے کا کہنا تھا 3جی کے آغاز کے موقع پر وارد نے لائسنس کی نیلامی میں حصہ نہیں لیا لیکن بعد ازاں سروس دینے کا آغاز کردیا کیونکہ اس کے پاس اسپیکٹرم تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ‘اس وقت وارد کے پاس اسپیکٹرم تھا اور موبی لنک کے پاس 3 جی، جس کی وجہ سے دونوں کو انضمام سے فائدہ ہوا کیونکہ وارد 3جی استعمال کرنے لگی اور موبی لنک نے اسپیکٹرم کا استعمال کیا’۔

دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ نے کمپنیز کی حمایت میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اے جی پی نے معاملے کو صحیح طرح نہیں سمجھا، وارد کو اس کے کم صارفین ہونے کی فائدہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہائی پہلے وارد نے اسپیکٹرم کے لیے 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے جو اس نے انضمام کے وقت استعمال کیے۔