نیزہ بازی کی ترقی میں محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب کا کردار

صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان اپنے فائدہ کےلیے مختلف ادوار میں مختلف چیزوں کو استعمال کرتارہاہے جس میں گھوڑے سے کام لینا بھی شامل رہاہے – گھوڑے کی برق رفتاری، وفاداری، مالک کے اشاروں کوسمجھ لینےکی صلاحیت، اسکی پھرتی اور طاقت کی بدولت انسان اور گھوڑے کی رفاقت میں اضافہ ہوااوریوں گھوڑےکوبھاری سامان اٹھانے، سواری اور جنگ میں دشمن کے خلاف لڑنےکےلئےاستعمال کیا جانےلگا- وقت کےبدلتے تقاضوں سے گھوڑےکا استعمال بھی بدل گیا جس سے گھڑسواری اور جنگی مشقوں نےایک مکمل کھیل کاروپ ڈھال لیا جن میں سے ایک نمایاں کھیل نیزہ بازی ہے-

نیزہ بازی ایک تاریخی کھیل ہےجس کی تاریخ کے بارے میں وثوق سے کچھ کہناممکن نہیں البتہ اس کھیل نےبتدریج یوں ترقی کی کہ آج تقریباانسانی آبادی والےہربراعظم میں نیزہ بازی کاکھیل کسی نا کسی صورت میں تھوڑےبہت فرق کےساتھ منعقدہوتاہے- نیزہ بازی برصغیر پاک و ہندمیں کئی برسوں سےمخصوص اندازمیں ہورہی ہے جو دیسی نیزہ بازی کے نام سے مشہورو مقبول ہے-

ثقافتی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو برصغیر پاک و ہند میں موجود رائج دیسی نیزہ بازی اور صوفیاء کی مساعی کابڑا گہراتعلق ہے- تاریخی حوالے سےدیکھا جائے توسلطان محمود غزنوی کے ساتھ بہت سے علماء اور مشائخ بھی یہاں تشریف لائے جنہوں نے یہیں سکونت اختیار کر لی اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کواپنا شعار بنایاجن میں سے کئی ایک صوفیا ءکے مزارات آج پاکستان میں مرجع خلائق ہیں- صوفیا نے مقامی ثقافتی رنگوں کو بروئے کار لا کر عوام الناس سے رابطوں کو مزیدتوسیع دی جن میں ایک اہم ذریعہ مقامی میلہ کا انعقاد تھا جس میں گھڑسواری سےمتعلقہ کھیلوں کو بھی فروغ ملا- اس کے ساتھ یوں وہ صوفیا جن سے عوام بے پناہ محبت کرتے تھےان کےعرسوں پہ بھی ثقافتی میلوں کا انعقادہونے لگا- گھوڑے پالنے کاتاریخی پس منظراگرجانا جائےتومعلوم ہوتاہےکہ اولیائے کاملین نےتحرک اور مستعدی کی زندگی گزاری تو اس سلسلے میں انہوں نے اپنے آپ کو چاق و چوبند رکھنے کے لئے اس کھیل یعنی نیزہ بازی اور گھڑسواری کےشغف کوبھی اپنائےرکھاجواللہ رب العزت کےفرمان کےمطابق گھوڑوں کوتیار رکھوکی تکمیل اورسنتِ نبویﷺاورسنتِ شبیری کی پیروی کو اپنا شعار بناناتھا-

نیزہ بازی اور صوفی ازم کی ثقافتی جہت کےاسی تعلق کو دیکھا جائے تو پاکستان کے نیزہ بازی کے پرائیویٹ کلبوں میں سب سے بڑااورمشہور کلب” محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب” بھی ایک ولی کامل سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ کے آستانے سےمنسلک ہےجنہوں نے آقا نامدارﷺ اور آپﷺ کے رفقاء کی سنت اور احکام الہی کے عین مطابق اپنے تھان پر گھوڑوں کو باندھا اور دلجمعی کے ساتھ حصول برکت کی خاطر ان کی خدمت کی- مذکورہ کلب کےبانی خانوادہ حضرت سلطان باھوؒ میں سےحضرت سخی سلطان محمداصغرعلیؒ ہیں جنہوں نےنیزہ بازی کےسلسلہ کو جس منفرد انداز میں اپنایا اور آگے بڑھانےکےلئےجواقدامات اٹھائےوہ قابل رَشک ہونے کےساتھ ساتھ بےنظیرو بے مثال اورقابل تقلیدو قابل تحسین بھی ہیں- حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کی اس عظیم ثقافتی کھیل (نیزہ بازی) کےلئےگراں قدر خدمات ہیں-


نیزہ بازی کے فروغ کےلئےحضرت سلطان محمد اصغرعلیؒ نے خود متعدد مقابلے منعقد کروائےجن میں وادی سُون سکیسرکا پُر فضا مقام اوچھالی، دربار حضرت سلطان باھوؒ، خانیوال کے قصبہ تلمبہ، ڈیرہ اسماعیل خان و پہاڑ پوراور میانوالی کے مقامات شامل ہیں- اِن کے علاوہ جہاں آپ نیزہ بازی کے فروغ کی خاطر مقابلے میں شرکت یا مقابلہ دیکھنے کےلئےتشریف لےگئےان مقامات کی بھی ایک طویل فہرست ہے آپؒ کے قائم کردہ کلب نے نیزہ بازی کے فروغ کے لئے کوہ ہمالہ کی ترائیوں سے بحیرہ عرب کے ساحل تک شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں نیزہ بازی کا مقابلہ ہو اور شرکت نہ کی ہو- یہی وجہ ہے کہ اِس وقت کلب میں خیبر سے کراچی تک کے علاقوں کے سوار موجود ہیں جہاں پاکستان کی مختلف علاقائی زبانیں، لباس، رسوم و رواج کا ایک حسین تال میل ہوتا ہے-

جب آپؒ نیزہ بازی کے مقابلے منعقد کرواتے تو اُصول و ضوابط کی مکمل پابندی کےلئے انتہائی قابل، معتبر اور ماہر ججز کےپینل کی خدمات حاصل کرتے- آپؒ نےکھیل میں جدت اور نئے آہنگ کو متعارف کروایا- فیصل کریم خان کنڈی(سابق ڈپٹی سپیکر برائے قومی اسمبلی پاکستان)، جن کے خاندان سے آپؒ کے دیرنیہ تعلقات تھے، نے ایک انٹرویومیں بتایاکہ ہمارے علاقے میں نیزہ بازی کے لئےسنگل کے علاوہ ٹیم آف فوریعنی سیکشن میں چار گھوڑے بھاگتےتھےلیکن آپؒ نے ٹیم آف ایٹ(سیکشن میں آٹھ گھوڑوں) کومتعارف کروایا- اسی طرح عموماًنیزہ بازی دن میں ہوتی ہے لیکن آپؒ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں رات کے وقت میدان سجا کے اور کلوں(وہ ہدف جسے نشانہ لگایا جاتا ہے) پرمشالیں لگا کرنیزہ بازی کروائی- اس بات سے تو ہر کوئی واقف ہے کہ جب شہسواراپنے فن کا مظاہرہ کرنےمیدان میں اترتا ہے تو اس سے پہلے وہ اس فن میں مہارت حاصل کرتاہے- رات کے وقت اس مظاہرے کا اظہار بتاتاہےکہ آپؒ کے کلب کے شہسوار اس پریکٹس کو پہلےبھی رات میں سر انجام دےکراس میں مہارتِ تام رکھتےتھے- جہاں ایساکرنا اس کھیل میں جدت لانےاور سواروں کی مہارت کو پختہ تر کرنے کی جانب توجہ مبذول کرواتا ہےوہیں پاکستان کےایسے علاقے جہاں شدت کی گرمی پڑتی ہےجس کے باعث دن کے وقت مکمل طورپر کھیل سے لطف اندوز نہیں ہواجاسکتا توان دنوں میں بھی نیزہ بازی کورات کے وقت کھیلاجاسکے، شہسواراور شائقین مکمل طورپر محظوظ ہوسکیں اور گھوڑے بھی گرمی کی شدت سے محفوظ رہ سکیں-

الغرض! آپؒ نے نیزہ بازی میں کئی علاقوں میں سیکشن آف ایٹ، فلڈ لائٹ نیزہ بازی اور کینڈل لائٹ نیزہ بازی کو متعارف کروایا جس سے رائج نیزہ بازی میں ترقی ہوئی-

آپؒ کی شخصیت ایک ڈسپلنڈ شخصیت کی مظہرتھی- حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ نےنیزہ بازی کےفروغ و ترقی وترویج کےلئےمختلف اقدامات اٹھائے- پاکستان کے کئی ایسےعلاقےجہاں نیزہ بازی کےلئے گھڑسوار یونیفارم زیب تن نہیں کرتےتھےآپؒ نےوہاں پرگھڑسواروں کی یونیفارم کومتعارف کرایاجس کےبعد گھڑسواروں نےمستقل ایک یونیفارم پہننا شروع کی اور ہر کلب کی علیحدہ یونیفارم اسکی شناخت بن گئی- مختلف طرح کےرنگوں کی یونیفارم کودیکھنے والے بہت لطف اندوز ہوتےجس سے نیزہ بازی کو فروغ ملا اور شائقین کی دلچسپی میں کئی گنا اضافہ ہوا- آپؒ نےاپنےکلب کےسواروں کو اس بات کاپابندبنایاکہ چھوٹے سےچھوٹے لیول کامقابلہ ہی کیوں نہ ہوآپ لوگ یونیفارم ضرور پہنیں تاکہ بحیثیت سوارآپ کی شناخت قائم ہو- جیسے فیصل کریم کنڈی اپنےاسی انٹرویومیں بتاتے ہیں کہ ہمارےعلاقےمیں آپؒ سے پہلے یونیفارم پہن کر نیزہ بازی کرنے کی روایت نہ تھی بلکہ یہ آپؒ ہی تھے جنہوں نے اس کی روایت ڈالی اور اب وہاں یونیفارم کے ساتھ نیزہ بازی کی جاتی ہے-

نیزہ بازی کے میدان میں روایتی و ثقافتی گھوڑا ناچ اور گھوڑوں کومیدان میں خاص انداز میں چکر بھی لگوائے جاتےہیں جبکہ گھوڑوں کا” ٹوراچال” (گھوڑوں کی نمائشی چال کامظاہرہ)بھی ہوتا ہے جن میں گھوڑوں اورسواروں کی مہارت کےعلاوہ گھوڑوں کی تربیت کے بارے بھی پتہ چلتاہے- آپؒ کے دو گھوڑے مستانہ اور نگینہ” آبیہ”(گھوڑے کے چلنے کا ایک خاص انداز)کی ایسی چال چلتے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے اور داد دئیے بغیر نہ رہ سکتے- آپؒ چونکہ ہر پہلو پر توجہ فرماتے اِس لئےگھوڑوں کے لئے خاص طور پر زِین بنواتے جن پر تلے(سنہری دھاگہ) کا کام اِنتہائی خوبصورتی اور نفاست سے کروایا جاتا- عوام جہاں آپؒ کےگھوڑوں کی چال اورنیزہ بازی میں سواروں کی مہارت کی بات کرتی وہیں ان گھوڑوں کی زین کے چرچے بھی زبانِ زدِ عام ہوتے-

جیساکہ پہلے بیاں ہواہےکہ صوفیاءنے ثقافتی پروگرامزکودعوت دین کاذریعہ بنایا بعین اسی طرح آپؒ نےبھی نیزہ بازی کےکھیل اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھی دعوت حق کو حصہ بنایا- نیزہ بازی کے ایونٹس میں یاد الہی اور تذکرہ رسولﷺسےکبھی غافل نہ رہے اور آنے والوں کو یادِ الٰہی کی ترغیب دیتے جِس کے حصول کی خاطر آپؒ نے اس کھیل میں استعمال ہونے والے ساز میں اپنے کلب کی جانب سے عارفانہ کلام کو لازمی قرار دیا اوریوں نیزہ بازی کے میدان میں ایک خاص طرز پے کلمہ طیبہ کے مخصوص صوفیانہ ترنم اورعارفانہ کلام کی گونج سنائی دینے لگی- آج پاکستان میں شایدہی کوئی ایسا میدان ہو جس میں نیزہ بازی کے دروان عارفانہ کلام نہ پڑھا جاتا ہو- کھیل سے اپنے من کو بہلانے والے اس ماحول میں جب عارفانہ کلام سنتےہیں تو اس وقت دل کےتار جاگنے لگ جاتےہیں جبکہ ثقافتی حض اورروحانی حس بھی بیدار ہوجاتی ہے-
اس کےعلاوہ آپؒ نےاپنے صاحبزادگان کی نیزہ بازی کے میدان میں کمال تربیت فرمائی، کئی کئی گھنٹے مسلسل گھوڑوں کی پیٹھ پررہتے ہوئے پریکٹس کرنا ہوتی بعض اوقات گھوڑے کی تھکن کے باعث گھوڑا بدل لیا جاتا لیکن مقرر کردہ اوقات میں تبدیلی نہ ہوتی- ان تمام باتوں کےادراک کے لئےآج کلب کےوسعت اورمقام کوبطورِثبوت پیش کیاجا سکتاہے- آپؒ نے سواروں کی تربیت کے لئے ماہر کوچ بھی مقررکئے جو سواروں کو اس کھیل کےداؤ و پیچ سے آشنا کرتے اور ٹریننگ دیتے- کوچ کو مستقل طور پر کلب میں رکھا جاتا تاکہ روزانہ کی بنیاد پر تربیت کا اہتمام ہو- ایک مستقل کوچ کلب میں رکھنے کی اِس روایت کوہر جگہ پذیرائی تو نہ ملی لیکن آپؒ نے اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کو معمول بنائے رکھا-

نیزہ بازی کے کھیل کوآپؒ نے احسن انداز میں نہ صرف اپنایا بلکہ اس سلسلے کو خاندان میں قائم رکھنے کے لئے اپنے صاحبزادگان اور دیگر عزیزوں کو تازی داری، گھڑسواری اور نیزہ بازی کے فن میں ایسا یکتا کیا جِسکاایک زمانہ معترف ہے اور یہ بات فقط کہنے کی نہیں بلکہ آپ کے بعد آپؒ کے بڑے بیٹے صاحبزادہ سلطان محمد علی نےکلب کےسرپرست اعلیٰ کے طورپرفرائض منصبی سنبھالےاورآپؒ کاقائم کردہ کلب آج پاکستان کا سب سے بڑاپرائیویٹ نیزہ بازکلب ہے- جس کے سوار نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر گھڑ سواری کے مختلف مقابلوں میں بشمول نیزہ بازی ورلڈ کپ میں شرکت کر کے نمایاں پوزیشنز حاصل کرچکے ہیں- محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب کےبانی کی نیزہ بازی کےحوالےسےترویج وترقی کی کوششیں، آپکی شخصیت کااس میدان میں طرہ امتیازاورانفرادیت کاباعث ہے-

آپؒ کی رحلت کےوقت تھان پرپینتیس گھوڑے موجودتھےلیکن اس خاندانی روایت کوقائم رکھتے ہوئے،آپؒ کے جانشین حضرت سُلطان محمد علی نےدِن رات کام کیا اور اس وقت تھان پر گھوڑوں کی تعداد ایک سو سےزائدہےجبکہ نیزہ بازی کی ترقی کےلئے بانی کلب کی روایت کوبرقرار رکھتے ہوئےآپؒ کے جانشین صاحبزادہ سلطان محمد علی بھی پاکستان میں نیزہ بازی کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں-

صاحبزادہ سلطان محمد علی نےبھی اپنی قیادت میں کئی مقابلےمنعقدکروائےہیں- پچھلے 20 برسوں سے محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب کے زیراہتمام سلطان نیزہ بازی ٹورنامنٹ کا انعقاد تلمبہ خانیوال میں ہورہا ہے-اسی ٹورنامنٹ میں گزشتہ برس کلب نےایک منفرد قدم اٹھایا ہےکہ نہ صرف پاکستان میں نیزہ بازی کافروغ ہوبلکہ اس کلچرل کھیل کوفروغ دینےکےساتھ عالمی سطح پر”پاکستان “کواس کھیل سے متعلق عالمی ریکارڈ سے نوازاجائے- اسی کوشش کے تسلسل میں محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب کے پلیٹ فارم سے”آل پاکستان سلطان نیزہ بازی ٹورنامنٹ” 26، 27 مارچ 2019کوتلمبہ، خانیوال میں منعقدہوا- جس میں پاکستان بھرسےنیزہ بازی کے61 کلبوں کی110ٹیموں کے 450 گھڑسوارتاریخی ریکارڈکا حصہ بنےاورملکِ پاکستان کو شاندارچھ عالمی ریکارڈزدئیے-

اس کے ساتھ محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب نے پاکستان کےسواروں کودنیا میں ہونے والے مختلف گھوڑ مقابلوں(Equestrian Competition)اور کھیلوں سےمتعارف کروانے کےلئےایک منفردقدم اٹھایاہےجسے “سلطان انٹرنیشنل نیزہ بازی ٹورنامنٹ ” کا نام دیا گیا- جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر نیزہ بازی کے میدان میں آگےلانےکےلئے پاکستان میں انٹرنیشنل نیزہ بازی کے قواعد و ضوابط کے مطابق نیزہ بازی ٹورنامنٹ منعقد کروایاگیا- کلب کا یہ عمل اس کھیل کی فروغ میں بہترین اضافہ ہے-
محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب نےپاکستان میں نیزہ بازی جوخاص قسم کے رولز کےمطابق عرصہ دراز سے مخصوص تاریخی اور ثقافتی کھیل بن کررہ گی تھی اسے بدلتے حالات و واقعات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے- ملکی سطح پر ایسے پروگرام کےانعقاد سے پاکستان کےہر چھوٹے بڑے شہسوار کو انٹر نیشنل کھیل صرف کھیلنے کا موقع ہی نہیں ملا بلکہ شہسواروں میں ایک نیا جنون، جوش و جذبہ پیدا ہواکہ وہ گھڑسواری سے متعلق انٹرنیشنل سطح کےکھیلوں میں حصہ لےاور ملک پا کستا ن کا نام عالمی سطح پرروشن کرتےہوئےپاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو بلندسے بلند تر کر سکیں- اس ٹورنامنٹ میں انٹر نیشنل نیزہ بازی کےمختلف سات ایونٹ کروائے گئےجن میں انٹر نیشنل اصول و ضوابط کو مد ِ نظر رکھاگیا- ان تمام ایونٹس میں انٹرنیشنل اصول کے مطابق گھوڑے کی سپیڈ کو بھی مدِ نظر رکھا گیا- پہلی بار پاکستان میں باضابطہ طور پرجدیدٹیکنالوجی سےگھوڑے کی سپیڈچیک کی گئی-سنگل گھوڑےکوزیادہ سےزیادہ 9 سیکنڈ پچاس کسرمیں اورٹیم آف فورمیں دس سیکنڈ پچاس کسر میں مقررکردہ فاصلہ طےکرناہوتاتھا- یہ ٹورنامنٹ پاکستان کی تاریخ میں صاحبزادہ سلطان کی انتھک محنت اورمسلسل جدو جہد کی وجہ سے پہلی مرتبہ منعقد ہوا –

الغرض! نیزہ بازی کی ترقی میں اس کلب کے بانی حضرت سلطان محمد اصغر علی ؒ نےدیسی نیزہ بازی کی ترویج و ترقی میں مختلف چیزیں متعارف کروائیں جبکہ پاکستان کےلئےورلڈ ریکارڈزقائم کرنااورسلطان انٹرنیشنل نیزہ بازی ٹورنامنٹ جیسےایونٹ کا انعقاد بھی کلب کےمنشورمیں موجودنیزہ بازی کی ترویج و ترقی میں اعلیٰ روایات کاتسلسل ہیں-