جماعت اسلامی کاحقوق کراچی تحریک کااعلان

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کہتے ہیں کراچی تحریک شروع کردی ہے۔۔ ستائیس ستمبرکوشاہراہ قائدین پرمارچ ہوگا۔۔ کراچی پیکیج فراڈ ہے،حقوق کی بات کرنے پرلسانیت کوہوا دی جارہی ہے،میئرکراچی کوچارسوارب کاحساب دیناہوگا۔۔ 1100ارب روپے کے پیکیج کا اعلان ہوتے ہی سیاسی شعبدہ بازی اور پوائنٹ اسکورنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پریس کانفرنس میں حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ کراچی کو ایک با اختیار شہری حکومت دی جائے۔ جس میں شہر کے تمام ادارے اس کے ماتحت ہوں۔ لینڈ کنٹرول کے نام پر کنٹونمنٹ بورڈ، کے پی ٹی اور بلدیہ عظمیٰ سمیت دیگر اداروں کی تقسیم ختم کی جائے۔
موجودہ سندھ لوکل باڈیز ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اس کی جگہ نیا قانون بنایا جائے۔۔ کراچی کومیگا میٹرو پولیٹن شہر کا درجہ دیتے ہوئے، بااختیار شہری حکومت کا قیام یقینی بنایا جائے۔ وسائل کی درست اور منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی کاموں کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے درست مردم شماری ازحد ضروری ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ اندازے کے مطابق کراچی کی آبادی آج تقریباً 3کروڑ تک پہنچ گئی ہے لیکن مردم شماری میں اسے ڈیڑھ کروڑ ظاہر کیا گیا ہے۔ کراچی میں شفاف، آزادانہ اور منصفانہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ شہر کی حقیقی قیادت کو سامنے آنے کا موقع مل سکے۔
کراچی کو آفت زدہ شہر قرار دینے کے بعد بارش سے متاثرہ اورمصیبت زدہ شہریوں اورتاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور فوری طور پر تمام یوٹیلیٹی بلز معاف کیے جائیں اور ٹیکسوں میں ریلیف دیا جائے۔ کے الیکٹرک کو فوری طور قومی تحویل میں لے کر 15سال کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔