کراچی کے 1100ارب پیکج پر الزامات کی جنگ

کراچی پیکج کا ابھی صرف اعلان ہوا لیکن وفاق اور صوبائی حکومتوں میں اس معاملے پر ٹھن گئی ہے۔۔ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، مشکل وقت میں کراچی کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ اور سیوریج سمیت تمام مسائل حل کریں گے۔

دوسری جانب اندرون سندھ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر بلاول بھٹو بھی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ پی پی چیئرمین کہتے ہیں وفاقی حکومت نے فقط تین نالوں کی صفائی کا بیڑا اٹھایا ہے۔۔

پیپلز پارٹی نے وفاقی وزرا کا باسٹھ فیصد خرچ کرنے کا دعویٰ مسترد کردیا۔۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں وفاقی حکومت نے کراچی کیلئے تین سو باسٹھ اعشاریہ نو ارب روپے رکھے۔ دو سو ساٹھ ارب پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دیے جائیں گے۔۔ وفاقی حکومت سی پیک میں شامل سرکلر ریلوے کو بھی اپنےکھاتے میں ڈال رہی ہے۔۔

معاملے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل کہتے ہیں پیکیج کا سن کر سندھ کے کچھ وزرا کی رال ٹپکنے لگی ہے۔۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب جھوٹ بول رہے ہیں۔