چاند بھی سیاسی ہوگیا

منصور احمد
……………………….

بھائی سنا ہے آج کل چاند بھی سیاسی ہونے لگا ہے ۔۔
بھائی کیا ہوگیا چاند تو چاند ہوتا ہے، جس طرح ڈگری ڈگری ہوتی ہے.. چاند کا سیاست سے کیا تعلق ؟
گدھے ۔۔چاند کی بات کررہا ہوں چاند کی ۔۔
تو گدھے کی بےعزتی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دوست نے منہ بناتے ہوئے کہا
او سوری غلطی سے مس ٹیک ہوگیا، آئندہ میں گدھوں سے معذرت کرلوں گا
ہاں جی اب ٹھیک ہے تو کون سا چاند سیاسی ہوگیا میرے عزیز ؟
دوست نے جواب طلب نظروں سے میری جانب دیکھا تو میں مسکرادیا
مسکرا کیوں رہے ہو۔۔ جواب دو مجھے، اب کی بار غصے سے کہا
میں نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا میرے خوف صورت دوست چاند تو ہر دور میں سیاسی رہا ہے.
خوف صورت کہنے پر دوست نے ایک بار پھر زہرآلود نظروں سے مجھے گھورا اور کہا خود تم کون سا حور پرے ہو؟
یہ تو ہے میں نے مسکرا کر کہا تو دوست جل بھن گیا ۔اور بولا اچھا بتاؤ کون سا چاند ہر دور میں سیاسی رہا ہے؟
بھائی چاند سیاسی ہی ہوتا ہے جب اس کو موقع ملتا ہے پارٹی بدل لیتا ہے
بھائی میں آسمان والے چاند کی بات کررہا ہوں ۔۔چاند ماموں کی نہیں؟
تو میں کونسا چاند ماموں کی بات کررہا ہوں؟
ہیں؟ پھر کون سے چاند کی بات کررہے ہیں بھائی ؟
اسی چاند کی جو ہر نوجوان کا چاند ہوتا ہے ۔اور چاند کے دیدار کے لئے چاندنی راتوں میں چکور بن کر نوجوان اپنی راتیں گوری کرتے ہیں.
اسٹاپ ۔۔اسٹاپ .. بلکہ فل اسٹاپ ۔۔ بھائی چاند کی بات کی تھی آپ تو اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگے ۔۔۔
ہاہاہا، میں نے قہقہہ لگایا اور کہا بھائی دیکھ چوہدری کا چاند ہو یا قریشی کا آفتاب ۔۔۔سب کے سب سیاسی ہوتے ہیں
موقع ملتے ہی بدل جاتے ہیں وہ کہتے ہیں پیسہ پھینک تماشا دیکھ ۔ جس طرح سیاست دان پارٹیاں بدلتے ہیں
ارے بھائی کہاں کی بات کہاں لے کر پہنچ گئے۔۔۔میں دلوں پر راج کرنے والے چاند کی بات نہیں کررہا ہوں
میں آسمان پر نظر آنے والے چاند کی بات کرر ہا ہوں جس کا ذکر آپ نے شروع کیا تھا
ہاں بھائی وہ چاند بھی سیاسی ہی ہوکر رہ گیا اس دور میں۔ ورنہ ایک دور تھا جب تمہاری امی تم کو چاند کہتی تھی اور پڑوسن آگے لقمہ لگادیتی تھیں ہاں ہے تو چاند جیسا بس گرہن لگ گیا ہے.
اس بار تو دوست نے کھاجانے والی نظروں سے مجھے گھورا اور کہا ہر ماں کے لیے اسکا بچہ چاند جیسا ہوتا ہے خواہ گرہن ہی کیوں نہ لگے
ہاں میرے دوست یہ بات تو ہے ماں ہے ہی اس عظیم ہستی کا نام ۔۔
بس بھائی کیا رلائے گا ۔۔دوست نے رودینے والی آواز میں کہا تو میں ہنس پڑا اور کہا واقعی یار ماں ماں ہوتی ہے
دوست نے لقمہ دیا ریاست بھی تو ماں ہوتی ہے ؟
اب کی بار میں نے دوست کودیکھا اور کہا بھائی تم کب سے اتنی پڑھی لکھی باتیں کرنے لگے؟مجھے شک ہونے لگا ہے آج کل کہا اٹھ بیٹھ رہے ہو؟
دوست نےمعصومانہ انداز میں مجھے دیکھا اور کہا آپ کے ساتھ۔
واہ میرا دوست تم نے بھی ڈیڑھ ہوشیاریاں سیکھ ہی لیں۔۔خیر جانے دیتا ہوں
بھائی چاند کا کیا ہوا؟ دوست نے ایک بار پھر اصرار کیا
او ہاں یاد آیا ہم تو چاند پر بات کررہے تھے ۔۔دیکھ بھائی چاند کچھ اسطرح سے سیاسی ہوگیا ہے
پہلے عید آتی تھی پورا پاکستان ایک ساتھ عید مناتا تھا پھر چاند نے سیاست کی پشاور میں ایک دن پہلے عید منانے لگا
ہائے بھائی اس میں چاند کا کیا قصور؟ یہ تو لوگوں کا قصور ہے جو چاند پراپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنالیتے ہیں.
درست کہا لیکن پاکستان نے ترقی کرلی ہے اب ایک وزارت ہے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی۔ اس کے ایک وزیر ہیں جو جدید سائنس کی مدد سے چاند دیکھتے ہیں.
تو بھائی اس میں برائی کیا ہے ٹیکنالوجی کا استعمال کا تو ضروری ہے۔
میں نے کب کہا کہ یہ غیر ضروری ہے لیکن اب عید الاضحی کا چاند ہی دیکھ لو کیسا سیاسی ہوا.
کیسے سیاسی ہوگیا؟
بھائی منسٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ٹوئٹ کیا کہ عیدالاضحیٰ دوہزار بیس اکتیس جولائی بروز جمعہ ہوگی
ہاں تو اس میں کیا غلط ہے َ؟
بھائی میری بات تو سن، میں نے کب کہا یہ غلط ہے لیکن اس پر سیاست تو شروع ہوگئی نا۔ میڈیا پر منسٹرآگئے کہ چاند تو ہوگیا لیکن رویت ہلال کمیٹی کو بادلوں کی وجہ سے نظر نہیں آیا
ہاں بھائی یہ تو ہے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع مل گیا
بس تو میری بات درست ثابت ہوگئی کہ آج کل چاند سیاسی ہوگئے ہیں خواہ وہ زمین پر بسنے والے چاند ہو یا آسمان میں چمکنے والا چاند
جی بھائی ثابت ہوگئی۔۔ لیکن ایک بات تو طے ہیں ہم بچپن سے اب تک رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر ہی عید ،بقر عید، رمضان اور محرم بارہ ربیع الاول مناتے آرہے ہیں تو کیسے کسی سائنسی کلنڈر پر عید اور بقر عید منالیں ؟
دوست نے کہا تو میں کہا دیکھتے چاؤ چاند پر سیاست کب تلک ہوتی رہے گی اب تو لگ رہا ہے ہرسال ہی چاند سیاسی ہوگا اور میڈیا کو مصالحہ ملے باقی
رہے نام اللہ کا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں