کیا آزادی کبھی گانوں سے، تقریروں سے بھی ملی ہے؟

علی حارث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مٹی کو پانی ملے تو زمین ۔۔ خون ملے تو وطن بنتا ہے۔۔کشمیر کی تاریخ خون سے لکھی جارہی ہے،آزادی کی راہ میں ایک
نسل قربان کردی لیکن ظالم کے آگے جھکے نہیں اذان مکمل کرنےکے لیے بائیس شہادتیں دینے والے کشمیری کلمے کےنام
پر بنے دیس کے ساتھ جڑنے کے لیے دہائیوں سے قربانی دے رہے ہیں،وہاں اب بھی کوئی جوان شہید ہو تو سبز ہلالی پرچم میں
لپیٹا جاتا ہے،جوان لاشوں کو کاندھے پر اٹھائےہزاروں کا مجمع ایک ہی نعرہ بلند کرتا ہے۔۔ کشمیر بنے گا پاکستان ۔۔ جواب میں
اِس پار سے بھی جواب صرف نعروں میں ہی دیا جاتا ہے ۔اس عمل کو سات دہائیاں گزر چکی ہیں آخر کشمیر کب بنے گاپاکستان؟

فتح بیت المقدس کی مہم کے دوران صلاح الدین ایوبی نے اپنے دست راست علی بن سفیان سے کہا تھا’’اگر ہم کفر کے طوفان کو
نہ روکیں تو ہم مسلمان نہیں بے غیرت ہیں ،اسلام کا دفاع اس انداز سے کریں کہ دشمن کے انتظار میں گھر بیٹھے رہیں اور جب وہ حملہ آور
ہو تو اس سے لڑیں،اور پھرفخرسےکہیں کہ ہم نے حملہ پسپا کردیا ۔۔یہ ہماری بزدلی کا ثبوت ہوگا۔دفاع کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن تمہیں
مارنے کے لیے نیام سے تلوار نکالنے لگے تو تمہاری تلوار اس کی گردن کاٹ چکی ہو‘‘

افسو س کی بات یہ ہے کہ دشمن تلوار نکال چکا اورہماری شہہ رگ (کشمیر) سےمسلسل خون بہا رہا ہےاور ہم اب تک تلوار نکالنے کی دھمکی ہی دے
رہےہیں ۔ہمارے حکمران کہتے ہیں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، جناب دنیا میں سارے مسائل ہی جنگ سے حل ہوئے،اصل مذاکرات جنگ سے پہلے
نہیں بعد میں ہوتے ہیں۔۔ ۔ کشمیر بزور شمشیر ہی مل سکتا ہے۔۔ ’’انڈیا جا جا کشمیر سے نکل جا ‘‘کہنے یا ایک اقوام متحدہ کی تقریر کو رو پیٹنے سے کچھ نہیں
ہونے والا

جب سے ہوش سنبھالا ہے مسئلہ کشمیر بیٹھ کر حل کرنے کی باتیں سنی ہیں ، لیکن اب سمجھ یہی آتا ہے کہ مسئلہ کشمیر بغیر جنگ کے حاصل نہیں کیاجاسکتا
جب میں یہ بات کرتا ہوں تو لوگ مجھے جذباتی کہتے ہیں،لیکن میں پھر یہی کہتا ہوں واحد حل یہی ہے ،وگر نہ ہماری آنے والی نسلیں ہمارے اور ہمارے آبا
کی طرح یوم شہدائے کشمیر ،،یوم یکجہتی کشمیر ، یوم سیاہ جیسے دن مناتی اور گانے گاتی رہے گی۔۔

ہم نے اور دن نہیں منانے ،، مزید گانے نہیں گانے۔۔میری عمر کے نوجوانوں کی خواہش ہے کہ اپنی زندگی میں کشمیر کو آزاد دیکھ لیں،، وہ چاہے بنے
پاکستان ۔۔ یا بنے خود مختار

اپنا تبصرہ بھیجیں