ٌّعلامہ طالب جوہری، ایک عہد تھا جو تمام ہوا

معروف عالم دین، ذاکر، شاعر اور مولف علامہ طالب جوہری انتقال کر گئے، کئی روز سے وینٹی لیٹر پر زیر علاج تھے. وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے. انہیں بلڈ پریشر بڑھ جانے پر 10 جون کو اسپتال لایا گیا تھا.

علامہ طالب جوہری کو دینی خدمات اور اتحاد بین المسلمین کی خدمات پر ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا.

علامہ طالب جوہری ستائیس اگست 1939 کو بھارتی ریاست بہار میں پیدا ہوئے. حدیث ، تفسیر ، کلام اور اسلامی فلسفے پر مکمل عبور رکھتے تھے. اسلامی اسکالر ، شاعر ، تاریخ دان ، فلسفی بھی تھے. علامہ طالب جوہری کی شاعری کتابوں میں حرف نمو ، پس آفاق اور شق صدا شامل تھی.

علامہ طالب جوہری کی کتابوں میں نظام حیات انسانی ، حدیث کربلا اور تفسیر قرآن بھی لکھی.

علامہ کو پی ٹی وی پر شام غریباں کی مجلس سے خطابت کرنے کا اعزاز حاصل رہا. دنیا کے کئی ممالک میں علامہ نے خطابت کے فرائض انجام دیے.

علامہ طالب جوہری کی میت مسجد خیر العمل منتقل کی گئی ہے ان کی نمازِ جنازہ بعد نماز ظہرین انچولی میں ہوگی اور تدفین وادی حسین قبرستان میں ہوگی. علامہ طالب جوہری نے سوگواران میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں.