جسٹس عیسیٰ قاضی کے منصب پر فائز مگر

زبیر انجم صدیقی
……………………………….

جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف صدارتی ریفرنس خارج کرنے کے فیصلے پر ان کے حامیوں کے جشن نے پاناما کیس کے اس فیصلے کی یاد تازہ کردی جب سپریم کورٹ نے نوازشریف کو فوری نااہل کرنے کے بجائے تحقیقات جے آئی ٹی کے سپرد کی تھیں ۔ اس وقت محبان نوازشریف کا منایا ہوا جشن کسے یاد نہیں ۔ خواجہ سعد رفیق ، خواجہ آصف ، دانیال اور طلال وغیر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے عدالت سے باہر نکلے تھے ، سعد رفیق نے کہا تھا کہ نوازشریف صادق بھی ہے اور امین بھی ، فیصلے سے حق کی فتح ہوگئی ۔ ن لیگی رہنما تو قانون دان نہیں تھے اس لیے انہیں مارجن دیا جا سکتا ہے مگر جمعے کو ممتازقانون دان حامد خان ایڈووکیٹ نے جس طرح فیصلے کو عدلیہ کی فتح اور آئین کی سربلندی قرار دیا اس پر مجھے بہت تعجب ہوا ۔ البتہ جسٹس فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک کو ابتدا میں ہی فیصلے کے مضمرات کا اندازہ ہوگیا تھا اس لیئے انہوں نے بہت محتاط ردعمل دیا ۔ منیر اے ملک نے کہا کہ وہ تفصیلی فیصلے میں ریفرنس کالعدم کرنے کی وجوہات دیکھے بغیر زیادہ تبصرہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ سپریم کورٹ کے سامنے تو ایسٹ ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت ، بدنیتی اور خفیہ نگرانی جیسے بڑے معاملات تھے ۔ امید ہے کہ تفصیلی فیصلے میں ان معاملات کا بھی جواب دیا جائے گا ۔

ہمارے بہت سے محبان نواز صحافیوں نے پیر اور منگل کی سماعتوں کے دوران ججز صاحبان کے ریمارکس کی وجہ سے ریفرنس کالعدم ہونے کا جشن منا لیا تھا ، خوشی کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ججوں نے تو ریفرنس کو اڑا کر رکھ دیا ہے ۔ مگر مدعا علیہ اور قانون دانی کے لحاظ سے سپریم کورٹ کے سب سے زیرک جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے خوب اندازہ لگا لیا تھا کہ معاملہ ایف بی آر کی طرف جارہا ہے اس لیے انہوں نے بدھ اور جمعرات کو اپنے آخری پتے کھیلے ۔ بدھ کو جسٹس قاضی فائز عیسی خود کورٹ روم پہنچ گئے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ ایف بی آر میں پیش آئے مبینہ برے سلوک کی کہانی پیش کرکے معاملہ ایف بی آر تک جانے سے روکنے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں ۔ اس سے بھی بات نہ بنی تو جمعرت کو اپنی اہلیہ وڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بھیج دیا ۔

یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ حکومتی وکیل فروغ نسیم وزیراعظم کی ہدایات کے ساتھ یہ موقف پہلے ہی عدالت میں پیش کر چکے تھے کہ حکومت معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کے حق میں ہے مگر یہ معاملہ ٹائم بائونڈ کیا جائے ۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہل خانہ کو منی ٹریل بیان حلفی کے ساتھ عدالت کو دینے کا آپشن دیا تھا مگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وہ آپشن استعمال کرنے سے پُراسرار طور پر گریز کیا اور اس کے بجائے اپنی اہلیہ سے وڈیو لنک پر عدالت میں بیان دلوایا جس کا مقصد پیٹی بند بھائیوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں لگتا ۔ اپنے اس وڈیو بیان میں بیگم صاحبہ نے کچھ کاغذات لہرائے کچھ بینک ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ زبانی بتایا مگر کمال ہوشیاری کے ساتھ وہ منی ٹریل دستاویزی شکل میں عدالت کو دینے سے گریز کیا ۔ اس سماعت کے بعد محبان نواز اور محبان جسٹس قاضی صحافیوں نے جشن منانا شروع کردیا کہ پوری منی ٹریل آگئی ، جج صاحب برحق ثابت ہوگئے ہیں ۔ مگر عدالتی فیصلے سے یہی لگ رہا کہ جسٹس فائز کے لیے آنے والے دن اس سے کہیں زیادہ مشکل ہوں گے جتنا پاناما کیس میں جے آئی ٹی بننے کے بعد نوازشریف کے لیے ثابت ہوئے تھے ۔ عدالت نے بھی کمال ہوشیاری کے ساتھ وکیلوں کو صدارتی ریفرنس کالعدم قرار پانے کا جھنجھنا دے کر بار ایسوسی ایشنز کا دبائو ختم کردیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے اور ایک محدود مدت میں تحقیقات مکمل کرنے سے متعلق حکومت کی منہ مانگی استدعا بھی منظور کر لی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس فائز کے اہل خانہ کو لندن کی تین جائیدادوں کی تفصیلات اور منی ٹریل کی وضاحتیں ایف بی آر میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی معاملے سے جان نہ چھوٹنے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ فیصلے کی روشنی میں ہونے والی کارروائی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا کردار بدستور موجود ہے جس کے سامنے ایف بی آر کی رپورٹ آئے گی ۔ سپریم جوڈیشل کونسل صرف ججوں کے احتساب کا ادارہ ہے اور اس کا کردار باقی رکھ کر یہ واضح اعلان کردیا گیا ہے کہ جسٹس عیسی کے قاضی کے منصب پر فائز رہنے کے لیے ابھی کلین چٹ ملنا باقی ہے ۔ اسی لیے فیصلے کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بہت پر اعتماد نیوز کانفرنس کی ۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت فیصلے سے پوری طرح مطمئن ہے سپریم کورٹ نے بہت احسن فیصلہ دیا ہے ۔ مزید کاروائی کے لیے جو طریقہ وضع کیا گیا ہے وہ بہت مناسب ہے فیصلے میں واضح کردیا گیا ہے کہ مزید کارروائی آرٹیکل دو سو نو کے ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت ہوگی ۔ حکومت تو پہلے معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کے حق میں تھی مگر جج صاحب ہی مسلسل اعتراض کر رہے تھے .

فیصلے کا جشن منانے والوں کے ارمانوں پر مزید اوس حکومتی وکیل فروغ نسیم کے اس انٹرویو نے ڈال دی جو انہوں نے کامران خان کو دیا ۔ فروغ نسیم نے کہا کہ اللہ کرے کہ جسٹس فائز کی فیملی کے پاس کوئی منی ٹریل ہو اور اگر منی ٹریل نہیں ہے تو نہیں معلوم آگے کیا ہو ۔ اگرجج صاحب کی اہلیہ منی ٹریل دے دیتیں تو سپریم کورٹ ہی اس پر فیصلہ کردیتی ۔ مگر جج صاحب کی اہل خانہ نے یہ آپشن استعمال کرنے سے گریز کیا ہے ۔

میرے خیال میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اتنی آسانی سے ہار ماننے والے نہیں ہیں ، وہ انتہائی زیرک قانون دان ہیں وہ ایف بی آر اور پھر اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی تگڑم لڑانے کے لیئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں