کورونا نہیں، جہالت ماردے گی !

کراچی والے۔۔۔ جن کا آؤٹنگ کے بغیر گزارا ناممکن۔ہفتہ، اتوار سیرسپاٹوں کے بنا خالی نہیں۔ اُس پر کورونا جیسی وبا کیا مصیبت ہے بھئی۔
بالکل یہی حال ہے مجھ سمیت تقریبا 90 فیصد شہریوں کا ۔ شغل لگانے کے شوق میں عوام اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ وہ موزی بیماری کو بھیکسی طور سیریس نہیں لیا۔ کورونا کی وجہ سے حکومت نے سخت فیصلے کیے۔ اسکول ،کالج ،جامعات، ایک ،دو نہیں تین ماہ کے لیے بند کردیے۔
اس دوران تئیس مارچ یوم پاکستان پریڈ کی تقریبات بھی نہیں کی ۔ دفتر دکانیں بند ،کاروبار ٹھپ ہوگئے ۔ پندرہ دن سندھ بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ کراچی کے شہری ایک دن تو گھر بیٹھے لیکن چودہ دن گھرمیں بیٹھنا عوام کے بس میں کہاں تھا اس لیے اگلےہی دن شہر کی سڑکوں پر معمول کا رش دیکھنے کو ملا۔ کیا رونا ، کیسا کورونا بھوکے امیر راشن بھرنے جنرل اسٹورز پر پہنچ گئے۔شہر کے مارٹس پر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ لوگوں کو گھروں میں محدود کرنے کے لیے دفتر وغیرہ بند کیے گئے لیکن معصوم عوام جون جولائی کی چھٹیاں سمجھے ۔جگہ جگہ پولیس رینجرز کے ناکوں کے باوجود شہری اپنی موجوں میں لگے رہے کچھ کھانے پینے نکلے۔ تو کچھ یہ جاننے کو بے تاب کہ لاک ڈاؤن کیسا ہوتا ہے چلو ۔ چل کہ دیکھ ہی لیتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر وائرل ویڈیوز اور تصویروں میں یہ بھی دیکھا کہ پولیس اہلکار شہریوں کی منتیں کرتے بھی نظر آئے کہ اپنی جان کے دشمنوں ۔خدارا گھر بیٹھو! لیکن شہریوں کے کانوں تک جوں تک نہ رینگی۔۔ نتیجہ یہ کہ حکومت کو مزید سخت روائیاں اپنا پڑا۔ لاک ڈاؤ ن بڑھایا اور جو دکان اور ہوٹلیں کھانا گھر پہنچا رہی تھیں وہ
تک بند ہوگئیں۔ سپرمارکیٹوں میں بے تحاشہ رش اور سوشل ڈسٹنسگ کی خلاف ورزی پر شہر کے بڑے بڑے سپر اسٹور زسیل کردیئے گئے۔ کہ چلو اب جس نے بھرنا ۔۔بھرلو راشن ۔عوام کی جہالت کی وجہ سے وہ دکانیں جہاں روزانہ کی ضرورت کا سامان مل رہا تھا حکومت نے اس کا دورانیہ بھی کم کردیا۔
صبح آٹھ سے رات آٹھ بجےکھلنےوالی دکانوں کو تین گھنٹہ پہلے یعنی پانچ بجے بند کرنے کا حکم آگیا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات پر مکمل پابندی لگ گئ۔لیکن عوام نے اس کو بھی مسئلہ بنالیا ۔کیا کریں کیسے کریں ۔حکومت اپنی طرف سے عوام کی جان بچانے کے لیے سرتوڑ کوششوں میں لگی ہے لیکن یہ عوام اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر مٹر گشتیوں سے باز نہیں آرہی ۔خریداری ایسے کررہے کہ آج کے بعد ان کو زندگی میں بھر کبھی شاپنگ کا موقع ہی نہیں ملےگا۔ٹھیک ہی کہتے ہیں جس قوم میں تعلیم اورشعور کی کمی ہو اُسے کوئی بیماری نہیں ان کی اپنی جہالت ہی مارنے کے لیے کافی ہے ۔