کورونا، عالمی ادارہ صحت کی اہم ترین ہدایات

کورونا وائرس کے سلسلے میں جتنے منہ اتنی باتیں۔ کسی دل جلے نے تو یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ہر شخص کورونا وائرس کا ماہر ہے۔ مگر عالمی ادارہ صحت نے اس سلسلے میں ماہرین کی مدد سےاہم ترین معلومات مرتب کی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو اپنے ہاتھ گندے محسوس ہو تو نہیں بہتے پانی میں صابن سے دھوئیں۔

اگر گندے نہ معلوم ہو تو بھی انہیں بار بار صاف کریں ۔ اس کے لئے آپ الکوحل بیسٹ ہینڈ رب صابن اور پانی کا استعمال کر سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھانسنے یا چھینکنے کے بعد ہاتھ دھوئیں۔

کسی بیمار کی دیکھ بھال کر رہے ہیں تو اسے اٹینڈ کرنے کے بعد ہاتھ دھوئیں۔

کھانا بنانے سے پہلے اور کھانا بنانے کے بعد ہاتھ دھوئیں۔

کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں۔

بیت الخلاءکے بعد ہاتھ دھوئیں۔

جب ہاتھ گندے معلوم ہو ہاتھ دھوئیں۔

جانوروں سے جڑا کوئی بھی کام کریں تو ہاتھ دھوئیں۔

جب کھانسی ہو یا چھیکین تو اپنے منہ اور ناک کو ڈھانپیں اس کے لئے آپ اپنی کہنی کو موڑ کر اپنے ہاتھ کا استعمال کر سکتے ہیں یا ٹشو پیپر کا استعمال کرسکتے ہیں۔

استعمال کے فوری بعد ٹشو پیپر کو ایک بند ڈسٹ بن میں پھینک دیں۔

بیمار کی دیکھ بھال کر رہے ہیں تو اپنے ہاتھوں کو کو الکوحل بیسڈ رب یا صابن سے صاف کریں۔

اگر آپ کو کھانسی یا بخار ہے تو اوروں کے قریب بھی مت جائیں۔

پبلک پلیسز پر مت تھوکیں۔

آپ کو بخار یا کھانسی ہے یا سانس لینے میں تکلیف ہے تو فوری طور پر معالج سے رجوع کریں اور اسے اپنی ٹریول ہسٹری بتائیں۔

بغیر پکے اور پکے گوشت کے لئے الگ الگ چوپنگ بورڈ استعمال کریں۔

جب آپ گوشت سے جڑا کوئی بھی کام کریں تو اپنے ہاتھوں کو فوری طور پر دھوئیں۔

ایسے جانور کا گوشت مت کھائیں جو بیمار ہو یا کسی بیماری سے مرا ہو۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر بھی جہاں یہ وبا پھیلی ہو گو شت کی ایسی مصنوعات استعمال کی جاسکتی ہیں جنہیں اچھی طرح پکایا گیا ہو اور جن کی تیاری میں میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھا گیا ہو۔

خریداری کے وہ مراکز پر جانوروں یا ان کی مصنوعات کو چھونے کے بعد صابن اور پانی کے ساتھ ہاتھوں کو دھویا جائے ۔

آنکھوں ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کیا جائے۔

بیمار جانوروں اور خراب گوشت کو چھونے سے گریز کیا جائے۔

خریداری کے مراکز پر پر آوارہ جانوروں آلائشوں اور وہاں موجود پانی سے بچا جائے۔

ایسے خریداری مراکز پر پر ماسک اور دستانے پہنے جائیں۔

کام کی جگہ کے کپڑے وہیں چھوڑے جائیں اور انہیں روزانہ دھویا جائے۔

اپنے خاندان کے افراد کو اپنے کام کی جگہوں کے کپڑوں اور جوتوں سے دور رکھیں۔