پچاس سال کا خلاصہ

فرحان رضا
……………………
دو ماہ بعد پچاس سال کےمستند بْڑھو ہو جائیں گے۔ اس نصف صدی میں کئی تبدیلیاں دیکھیں۔ ٹیلی فون لگوانے کےلیے دس دس سال کا انتظار کرتے ہوئے لوگوں سے ملاقات ہوئی توامریکا سے خط آنے میں پندرہ دن کا انتظار بھی دیکھا۔ رکشا ٹیکسی میں میٹر ہوتے تھے تو میٹر غائب ہوتے من مانی کرتے ڈرائیور دیکھے۔ بسوں میں ٹکٹ ملتے تھے اور کنڈکٹر کا یونیفارم ہوتا تھا تو پھر کوئی بھی شخص ٹاور ٹاور کی آواز لگاتا ٹکٹ لینے آدھمکتا تھا۔ کالی ٹیکسی دیکھی پیلی ٹیکسی دیکھی۔ بسوں کے سفر میں کشور اور لتا کے گانے سنے تو اولے اولے جیسے گانے بھی سنے۔
پانچ بجے ٹھیک پی ٹی وی شروع ہوجاتا تھا۔ تلاوت قران پاک، پھر تدریس اور پھر دیگر پروگرامز ۔۔کارٹون شوق سے سب دیکھتے تھے اور رات آٹھ بجے کا ڈرامہ۔۔نو بجے کا خبرنامہ اہم ہوتا تھا۔ اس سے پہلے ریڈیو پر سیربین سنا جاتا تھا تاکہ نو بجے کی پی ٹی وی کی خبروں کو جانچا جاسکے کہ کتنا جھوٹ تھا کتنا سچ.
اسلامی حکومت کا بول بالا تھا۔ پیلے کلر کے کپڑے پہن کر اسکول جاتے۔ ہر چوہ اگست پر شاندار تقاریب ہوتیں۔ اور پھر وی سی آر پرراجیش کھنہ، جیتندر، امیتابھ یا متھن چکرورتی کی فلم لگائی جاتی۔ ہہ ساری فلمیں اسلامی جمہوریہ میں دبئی کے راستے اسمگل ہوکر پاکستان آتی تھیں۔ اسی دور میں اسمگلنگ کا وہ بول بالا ہوا کہ کلفٹن برج کے اس پار ایک پوری بستی ڈی ایچ اے اس کے پیسے سے بس گئی۔ نئے دولتیا کی ٹرم پہلی بار سنی جب گھر میں سنا کہ فلاں صاحب کے پاس پوڈر کا پیسہ ہے اسی لیے ڈیفنس میں بڑا بنگلہ لیا ہے۔ کسٹم کا افسر ہونا تو جیسے سونے کی کان کا مالک ہونے کے مساوی تھا۔ لیکن سرکاری ٹی وی روزانہ اسلامی اصولوں پر چلنے کی شدت سے تلقین کرتا رہتا تھا۔ کرپشن کے خلاف فوجی حکومت میں خوب بیان چلائے جاتے لیکن پوڈر کا پیسہ بھی خوب پھیلتا گیا۔
ٹیلی فون جو دس سال میں بھی کنکشن مل جائے تو خوش نصیبی سمجھا جاتا تھا بے وقعت ہوتے دیکھا۔ اب تو دوسو روپے میں فون کنشکشن اور تین ہزار میں فون سیٹ لے کر موبائل فون کے مالک بن جاتے ہیں۔ مہنگی انٹرنیشنل کالز سے جان چھوٹی واٹس اپ، یا اسکائپ کالز کریں۔۔
ٹیکنالوجی کا انقلاب بھی ہمارے دور میں آیا پہلے ایس ٹی این کے ذریعہ سی این این پہنچا۔ پھر ڈش ٹی وی کے ذریعہ تو پوری دنیا گھر میں چلی آئی۔ نوے کی دہائی کے آغاز میں ہی موبائل فون آئے۔ پچاس ہزار کا ایک فون ملتا تھا۔۔پھر نوے کی دہائی کے آخر تک انٹرنیٹ آگیا۔ یاہو اور ایم آئی آر سی چیٹنگ نے بھائی لوگوں کو گوریوں سے بات کرنے کا گر سکھا دیا۔۔اور ایرانی ہوٹلوں کی طرح نیٖٹ کیفے آباد ہوگئے۔
جب بڑے ہورہے تھے تو روزانہ جنرل ضیا کو پی ٹی وی پر دیکھتے تو لگتا تھا کہ یہ ہمیشہ سے ہیں اور شاید ہمیشہ یہ ہی ہمارے صدر رہیں گے۔ ناک سے بولنے والے ایک آنکھ لیکن جہاز پھٹ گیا۔ اور موصوف نہ رہے۔ پھر جمہوریت آگئی اور ہر پھر چند ماہ میں چلی گئی پھر جمہوریت آگئی یہ تماشا بھی انیس سو نناوے تک دیکھا۔۔
ہم پاکستانی سے مہاجر ہوئے اور پھر پاکستانی بننے کے عمل کا حصہ بن گئے۔ بلوچ غدار تھے پھر کچھ غدار پاکستان واپس آکر پاکستانی ہوگئے اور جو پہلے پاکستانی تھے دس سال پہلے وہ غدار بن گئے
پہلے اسلام کی جنگ لڑنے والے جہادی تھے پھر عالمی خطرہ طالبان ہوئے پھر پاکستان کے خلاف لڑنے والے دہشتگرد ہوئے
پہلے مسجدیں مدرسے کمیونزم کے خلاف ہرآول دستہ تھے۔ مولوی کہیں سے گزر جائیں کوئی روک نہیں سکتا تھا ہاں البتہ جینز شرٹ پہنے لڑکوں کو گھنٹوں گھٹوں پولیس کو جواب دینا ہوتا تھا۔۔۔پھر یہ ہوا کہ مسجدوں مدرسوں والے ہی دہشتگرد قرار پائے۔ خودکش جیکیٹ تو خودکش بمبار کی تلاش مسجدوں مدرسوں میں ہونے لگی۔
مہاجروں نے پنجابی سندھی پٹھان سب کو مارا اور ان لوگوں نے مہاجروں کو مارا۔ آخر کار یہ سب متحد ہوکر متحدہ بن گئے اور مشرف با پاکستان ہوکرسن دوہزار دو سے دس تک خوب اقتدار انجوائے کیا.
اس نصف صدی میں ہم نے کچھ چیزیں بدلتی نہین دیکھیں،
ایک کرپشن۔۔جو غریب تو کبھی نہیں کرتا اور صاحب اقتدار کبھی کرپشن کرنے سے چوکتا نہیں۔
سنا ہے جنرل ضیا بھی کرپشن کے خلاف لڑنے آئے تھے اور ملک میں پوڈر کا پیسہ اسلحہ کا گودام زندہ لاشوں کا قبرستان بنا کر خود بھی بم پھٹنے سے چل بسے.
پھر نواز شریف نے جمہوری حکومت گرائی کرپشن کےالزام میں تو بے نظیر بھت
و نے نواز شریف کو کرپٹ کہا ۔۔آخر کار مشرف نے دونوں کو کرپٹ کہہ کر فارغ کیا۔۔ اور اپنے ساتھ دینے والوں کو کھلے ہاتھوں ملک لوٹنے کی اجازت دیدی جیسے کہ چائنا کٹنگ کراچی سے شروع ہوئی تو شوگر ملوں کی ذخیرہ اندوزی پنجاب تک پہنچی۔ نجکاری کی آڑ میں بھی بڑے دھندے ہوئے تو اسٹاک مارکیٹ کے ذریعہ خوب ہیر پھیر۔۔
دوسرا کافر ہونے کا الزام لگنا بند نہ ہوا۔
جنرل ضیا کے دور میں کفر کے فتوے کا اختیار گلی محلے کی مسجدوں کو دیدیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر وہ شخص جس سے اختلاف تھا وہ کافر قرار دیدیا گیا۔ شیعہ کافر سے بات چلی اور بات سب کافر تک پہنچ گئی۔ اب جو میرا مخالف ہے وہ کافر ہے۔۔معاملہ تو اتنا بڑھ چکا ہے کہ بھروسہ نہیں کل اسٹیبلشمنٹ کو بھی کفر کا فتوی نہ بھگتنا پڑ جائے۔۔۔لیکن ایسا ہوگا تو حیرت نہ ہوگی کیونکہ سنتے آئے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی
تیسرا غربت
ہر حکومت غربت کے خلاف لڑنے کے لیئے آئی اور ہر حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا پیٹرول گیس آٹا دال مہنگا کیا خود امیر ہوئے اور چل دیئے۔ یہ سلسلہ بلا تعطل ہوش سنبھالنے سے تو ہم دیکھ رہے ہیں۔
اور
غداری
جنرل ایوب نے محترمہ فاطمہ جناح کوغدار کہا بھارت کا ایجنٹ کہا۔ یہ ہم نے غیر نصابی کتابوں میں پڑھا ۔ پھر ہم نے خود دیکھا ولی خان کو غادار کہا گیا۔ خیربخش مری عطا اللہ مینگل غدار تھے پھر الطاف حسین غدار تو جی ایم سید غدار۔۔ہر شخص جو حکومت کی پالیسی کے خلاف تھا وہ غدار تھا اور بھارتی ایجنٹ تھا۔ جنرل ضیا کے دور تک امریکی ایجنٹ ہونا قابل فخر ہوتا تھا لیکن جیسے ہی سن نوے میں امریکا نے منہہ پھیرا امریکی ایجنٹ ہونا بھی بری بات ہوگئی۔
غداری کا سرٹیفیکٹ صرف اس لیئے دیا جاتا تھا اور جاتا ہے کہ آپ ہماری پالیسیوں سے اختلاف کیون کرتے ہیں۔ فوجی حکومت اور اس کے تھنک ٹینک ہمیشہ یہ کہہ کر پاکستانیوں پر فیصلے تھوپتے رہے کہ یہی درست فیصلہ ہے ہم سب جانتے ہیں تم کچھ نہیں جانتے کچھ سرپھرے ان فیصلوں اور پالیسیوں پر سوال کرتے تو وہ غدار قرار پاتے مثال کے طور پر جنرل ضیا نے ہر اس شخص کو کافر اور غدار کہا جس نے افغان جہاد کی مخالفت کی۔ ان غداروں کا موقف تھا کہ افغان جہاد میں مداخلت سے ملک میں شدت پسندی آئی گی۔ پاکستان کو امریکا استعمال کرکے پھینک دے گا۔ اور یہ سب غدار تھے۔۔کہا گیا سویت یونین کی خدا کو نہ ماننے والی حکومت پاکستان پر حملہ کردے گی۔۔لیکن کچھ نہ ہوا۔۔ہوا تو یہ ہوا کہ غدار جو کہتے تھے وہ سچ ثابت ہوا۔ امریکا نے سویت یونین کے ٹوٹتے ہیں پہلے لات مار کر سائڈ پر پھینکا اور ہم روتے رہے ارے ہمیں کیوں چھوڑ دیا ہم تو وفادار تھے۔۔پھر اسلامی شدت پسندی کا ٹھپہ لگا کر خوب ڈرون حملے پاکستانی علاقوں پر کیئے۔۔ غدار کہتے رہے دیکھوان شدت پسندوں سے جان چھڑاو یہ ملک کے لیئے عوام کے لیئے خطرہ ہے لیکن اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والوں نے کہا نہیں یہی ہمارا اثاثہ ہیں۔۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اثاثے نے خوب پاکستان میں بم برسائے بیگناہ مارے اور تو اور اسکول کے بچوں کا بہیمانہ قتل کرکے تاریخ کا وہ خونی باب رقم کیا جو کبھی نہیں بھلایا جاسکے گا۔۔پھر عقل کل بننے کے دعویداروں کو ہوش آیا اور خفت مٹانے کے لیئے کہا وہ اچھے طالبان نہیں ہیں۔ اور ان کو مارنا شروع کیا۔اس میں کئی ہزار شہری اور فوجی شہید ہوئے۔ جن کا خون یقینی طور پر ان کے سر جو یہ کہتے رہے کہ ہماری پالیسی بہترین ہے۔
پھر غداروں نے کہا دیکھو القاعدہ ہو یا طالبان دور رہو یہ ملک کو نقصان پہنچائیں گے۔۔۔عقل کل کے دعویداروں نے کہا کہ نہیں ہم جانتے ہیں تو ایجنٹ ہو۔۔۔پھر وہی ہوا اسامہ اپنے گھر سے نکلا اور دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی۔
بیس سال تک پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار رہا ۔ اس کا ذمہ دار کون تھا۔۔یقینی طور پر عقل کل کے دعویدار
اب پھر غدار کہہ رہے کہ لوگوں کو گلے لگاؤ، اپنے ساتھ جوڑو۔۔اتنے سال سے بلا شرکت غیرے اقتدار کررہے ہو تو اپنوں کے کڑوے لہجہ ان کی گالم گلوچ بھی برداشت کرو انہیں گلے لگاو لہجوں میں خود چاشنی آجائے گی۔۔ اپنوں کو غیر نہ سمجھو ورنہ نقصان ہوگا۔۔لیکن عقل کل کے دعویدار پھر یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب غدار ہیں بھارت کے ایجنٹ ہیں تو کبھی امریکا کے ایجنٹ ہیں۔۔
ماضی سے تو پتہ چلتا ہے کہ عقل کل ہونے کے دعویداروں کو چند سال میں پھر اسی طرح چپکے سے پالیسی بدلنی پڑے گی سب کو گلے لگانا پڑے گا جیسے پہلے پالیسی بدلنی پڑی۔۔۔لیکن اس وقت تک ملک میں کیا صورتحال ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
پچاس سال زندگی کے پورے ہوا چاہتے ہیں۔ اس نصف صدی میں خون خرابا، دہشتگردی۔ غندہ گردی، لوٹ مار کا راج رہا ۔۔اور زندگی اکثر کی خوف و ہراس میں کٹی۔ اس کا حساب کون دے گا؟ جو پچاس سال میں بیگناہ مارے گئے ان کا حساب کسی کو تو دینا ہوگا۔ سینہ پھلا کر کبھی جمہوریت کبھی آمریت کا راگ تو کبھی زندہ ہے بھٹو تو کبھی قدم برھا نواز شریف کا راگ۔۔۔ان سب کے درمیان میں ایک عام آدمی زندگی کے پچاس سال گزار گیا۔۔ہر وقت اسی
فکر میں کہیں سے کوئی نامعلوم گولی کا نشانہ نہ بن جاوں، کسی بم دھماکے میں نہ مارا جاؤں، نوکری بچی رہے، مزید پیسے کیسے کماؤں کہ گھر چلے، کل کیا ہوگا۔ ایسی فکروں میں گزر گئی۔ اور شاید ایسی ہی گزرتی رہی گی۔
یہ پاکستان دیا ہے فوجی اور سیاسی حکمرانوں نے خود عیاشی کی زندگی گزارتے رہے اور گزارتے ہیں ہمیں روز مارتے رہے اور مارتے ہیں اور ہمارا حال یہ ہے کہ جب پیٹ بھر کر روٹی مل جائے سب گھر خیریت سے واپس آجائیں تو یہ شعر پڑھ کر سو جاتے ہیں
آج کا دن خیر سے گزار
سر تا پا بدن سلامت