وزیروں، سیاستدانوں اور بااثر افراد کی سیکس ویڈیوز، بھارت کا سب سے بڑا اسکینڈل

humurdu.com
بھارت میں اب تک کا سب سے بڑا ’سیکس‘ اور ’بلیک میلنگ‘ اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں کم سے کم 8 ریاستی وزرا، ایک درجن اعلیٰ بیورو کریٹس اور امیر ترین افراد کو نوجوان لڑکیوں نے پھنسایا۔

بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق یہ اسکینڈل بھارت کی ریاست مدھیا پردیش میں سامنے آیا اور پولیس اس کیس کو اب تک کا بھارت کا سب سے بڑا سیکس و بلیک میلنگ کا اسکینڈل قرار دے رہی ہے۔

اسکینڈل کی 5 مرکزی ملزم خواتین کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جو ایک این جی او کے نام پر حکومتی وزیروں، سرکاری افسران، تاجروں اور امیر شخصیات کو پیار کے نام پر پھنسا کر انہیں بلیک میل کرتی رہیں۔

پولیس کے مطابق اس اسکینڈل کیس کے دوران گزشتہ کچھ عرصے کے دوران لڑکیوں اور خواتین نے مدھیا پردیش کے 8 ریاستی وزیروں، اعلیٰ سرکاری افسران، تاجروں اور امیر ترین افراد کی ایک ہزار قابل اعتراض اور برہنہ ویڈیوز بنائیں۔

اس اسکینڈل کی مرکزی ملزمہ 39 سالہ شویتا جین نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ہی اس اسکینڈل کا منصوبہ تیار کیا اور اس مقصد کے لیے غریب اور متوسط گھرانے کی نوجوان لڑکیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

پولیس کے مطابق اس کیس کی تفتیش کے لیے گرفتار کی گئی 5 خواتین مرکزی ملزمان ہیں جو اپنے اپنے حساب سے ایک الگ گینگ چلا کر اعلیٰ شخصیات کو بلیک میل کرتی رہیں۔

ان خواتین کی جانب سے مدھیا پردیش سمیت دیگر ریاستوں کی خوبرو اور کالج میں زیر تعلیم لڑکیوں کو نوکریوں اور پرتعیش زندگی کی لالچ دے کر بھرتی کیا گیا اور انہیں وزرا، اعلیٰ افسران، تاجروں اور بااثر ترین مرد حضرات کو بلیک میل کرنے کا ٹارگٹ دیا۔

اس اسکینڈل کو ’ہنی ٹرپ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں پولیس کو ملنے والی ویڈیوز میں وزرا، اعلیٰ افسران اور بااثر افراد کی برہنہ اور قابل اعتراض ویڈیوز بھی شامل ہیں۔

’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق بھارت کے سب سے بڑے اس ’سیکس اسکینڈل‘ میں نہ صرف خواتین اور نوجوان لڑکیاں بلکہ مدھیا پردیش کے صحافی بھی ملوث ہیں۔

humurdu.com fastest growing urdu news website of Pakistan