ہر مخالف کو نہ غدار پکارا جائے

وصی شاہ

دل مکار کو مکار پکارا جائے
کیوں نہ غدار کو غدار پکارا جائے

اس لئے بھی کوئی تریاق نہیں ہم نے پیا
ہم کو ہر دم تیرا بیمار پکارا جائے

جس کی مٹھی میں محبت کے پڑے ہوں سکے

ایسے مفلس کو تو زر دار پکارا جائے

میں ہی ہر بار قبیلے کے لئے دار چڑھوں
اور میرا نام ہی ہر بار پکارا جائے

اس سے مظلوم کی توہین ہوا کرتی ہے

کبھی قاتل کو نہ دلدار پکارا جائے

حرف تنقید علاج دل بیمار بھی ہے
ہر مخالف کو نہ غدار پکارا جائے