سائبر ورلڈ کے جنسی درندوں کا خطرہ، بچوں کو ٹک ٹوک ایپ سے دور رکھیں

ٹک ٹوک انتہائی مقبول لائیو اسٹریمنگ ایپ ہے جس میں لوگ اپنی وڈیوز بناکر، کسی مشہور گانے یا ڈائیلاگ پر اپنے ہونٹ ہلاکر یا وڈیوز ایڈٹ کرتے ہیں.
اس ایپ کے بارے میں امریکی ریسرچ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بیشتر صارف بچے ہیں. ٹک ٹوک نے استعمال پر بظاہر تو تیرہ سال کی عمر کی حد مقرر کر رکھی ہے لیکن اکثر کم عمر افراد کا اس کا استعمال کرتے پائے گئے ہیں.
ان ویب سائیٹ پر بچے جب اپنی وڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں تو بہت سے سائبر سیکس لارڈ اُن پر نظر رکھتے ہیں اور انہیں ٹارگٹ کرتے ہیں.
ریسرچ ادارے کے مطابق بچوں کو آہستہ آہستہ سیکس کی عادتوں کی طرف ڈالا جاتا ہے اور اب ان نامعلوم سائبر کرمنلز کا نشانہ آٹھ سال تک کے بچے بھی ہیں. بہت سے بچے یا کم عمر لڑکے لڑکیاں نادانستگی میں اپنی کچھ نامناسب تصویریں اور وڈیو اپ لوڈ کردیتی ہیں. دس سے سولہ سال تک کے اکثر بچوں‌ نے اپنی وڈیوز پوسٹ کرنے پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا ہے.
اس سروے میں ایک کیس کے طور پر تیرہ سال کی لڑکی کا اکاؤنٹ رکھا گیا جس سے کچھ قابل اعتراض تصاویر اور پوسٹ بھیجی گئیں اور پھر ایک اور ٹین ایجر نے اس سے رابطہ کرکے کم عمر میں تعلقات قائم کرنے کی آفر کی.

سروے کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں سوشل ایپ بلڈرز کو قانون بنانے اور ان پر عمل کے لیے تجاوزیر تیار کررہے ہیں