کینسر کے علاج کی جانب انقلابی پیش رفت

کینسر وہ مرض ہے جسے لاعلاج قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر برس لاکھوں افراد اس مہلک مرض کا نشانہ بنتے ہیں۔ مگر اب سائنس نے دعویٰ کیا ہے کہ کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

امریکا اور یورپ کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایک ویکسین تیار کی ہے ابتدائی طور پر اس کا تجربہ چوہوں پر کیا گیا ہے۔ اس ویکسین نے کینسر کے ٹیومر کو 97% تک ختم کیا ہے۔ انسانوں پر اس کے تجربے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انجکشن کے ذریعے دی جانے والی یہ ویکسین دو امیون اسٹیمولیٹرز پر مشتمل ہے۔ یہ اسٹیمولیٹرز “ٹی سیلز ” کو متحرک کرتے ہیں جس سے تمام جسم میں ٹیومرز کا خاتمہ ہوتا ہے۔ عام طور پر جب ٹیومر بنتا ہے ٹی سیلز اسے ایب نارمل سیلز کے طور پر رجسٹر کرتے ہیں اور ان کو روکتے اور ان پر حملہ کرتے ہیں مگر کینسر کے پھیلنے کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ ٹی سیلز پسپا ہو جاتے ہیں۔ نئی ویکسین ان ٹی سیلز کو متحرک کر دیتی ہے ۔

چوہوں پر کئے گئے تجربات میں یہ ویکسین لمفوما ، بریسٹ اور کولون کینسر کے خلاف کامیاب رہی ہے۔

امیونو تھراپی نامی اس علاج کا آغاز تجرباتی بنیادوں پر اس سال کے اختتام کر دیا جائے گا۔ یہ طریقہ علاج نسبتا سستا اور تیز ہے۔